صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۹ - شادی شدہ زانی کے لیے رجم
رجم کی حدیث: گواہی، حمل یا اقرار کی شرط
صحیح بخاری : ۶۸۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۲۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ " لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ ، حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ : لَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ، أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى ، وَقَدْ أَحْصَنَ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ ، أَوْ كَانَ الْحَبَلُ ، أَوِ الِاعْتِرَافُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : كَذَا حَفِظْتُ : " أَلَا وَقَدْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ " .
ابن عباس روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں زیادہ وقت گزر جائے اور کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو رجم کا حکم ہمیں کہیں نہیں ملتا اور اس طرح وہ اللہ کے ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ رجم کا حکم اس شخص کے لیے فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو بشرطیکہ صحیح شرعی گواہیوں سے ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کرے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے اسی طرح یاد کیا تھا آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک اہم بات بیان کرتے ہیں۔ انہیں اندیشہ تھا کہ وقت گزرنے کے بعد لوگ یہ نہ کہیں کہ ہمیں کتاب اللہ میں رجم کا حکم نہیں ملتا، پھر وہ اس حکم کو چھوڑ بیٹھیں۔ حدیث کے متن میں رجم کو اس شخص کے لیے حق بتایا گیا ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو۔ ساتھ ہی ثبوت کی صورتیں بھی بیان ہوئیں: صحیح شرعی گواہی قائم ہو، حمل ظاہر ہو، یا شخص خود اقرار کرے۔ آخر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے رجم کیا اور آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد مسلمانوں نے بھی رجم کیا۔ اس روایت کا اصل موضوع رجم کی حدیث، شادی شدہ زنا کی حد، اور ثبوت کی شرطیں ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رجم کا حکم شادی شدہ زانی کے بارے میں بیان ہوا ہے۔
- حد کے لیے ثبوت کی صورتیں ذکر ہوئیں: گواہی، حمل یا اقرار۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم بھلا دینے کے خطرے سے خبردار کیا۔
- روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کا حوالہ دیا گیا ہے۔
