صحیح بخاری حدیث ۶۸۳۳ - حد کے ساتھ ایک سال شہر بدری
غیر شادی شدہ زانی کی حد: شہر بدری کا فیصلہ
صحیح بخاری : ۶۸۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۳۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَضَى فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ ، بِنَفْيِ عَامٍ ، بِإِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَيْهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جس نے زنا کیا تھا اور وہ غیر شادی شدہ تھا، حد قائم کرنے کے ساتھ ایک سال تک شہر باہر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۳۳ کا خلاصہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جس نے زنا کیا اور وہ غیر شادی شدہ تھا، حد قائم کرنے کے ساتھ ایک سال تک شہر سے باہر کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ اس حدیث میں دو باتیں ساتھ آئی ہیں: حد قائم کرنا اور ایک سال کی نفی، یعنی شہر بدری۔ روایت کا دائرہ خاص ہے، اس میں شادی شدہ زانی کے حکم کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی لیے اس کا بنیادی موضوع غیر شادی شدہ زنا کی سزا حدیث اور ایک سال جلا وطنی ہے۔ اس روایت سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ غیر شادی شدہ شخص کے معاملے میں حد کے ساتھ ایک سال باہر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غیر شادی شدہ زانی کے بارے میں خاص فیصلہ بیان ہوا ہے۔
- حد کے ساتھ ایک سال شہر بدری کا ذکر آیا ہے۔
- روایت میں شادی شدہ شخص کا حکم بیان نہیں کیا گیا۔
- فیصلہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف منسوب ہے، جیسا کہ متن میں ہے۔
