صحیح بخاری حدیث ۶۸۳۶ - زنا کے مقدمے میں درست حکم

زنا کے مقدمے کی حدیث: فدیہ نہیں، کتاب اللہ کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۳۶

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ " أن رجلا من الأعراب جاء إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , اقْضِ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَامَ خَصْمُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ اقْضِ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِكِتَابِ اللَّهِ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ ، وَوَلِيدَةٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ ، فَزَعَمُوا أَنَّ مَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ ، فَرَدٌّ عَلَيْكَ ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَارْجُمْهَا " . فَغَدَا أُنَيْسٌ فَرَجَمَهَا .

ابوہریرہ اور زید بن خالد روایت:

ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر دوسرے نے کھڑے ہو کر کہا کہ انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ! ان کا کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں، میرا لڑکا ان کے یہاں مزدور تھا اور پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے کو رجم کیا جائے گا۔ چنانچہ میں نے سو بکریوں اور ایک کنیز کا فدیہ دیا۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو ان کا خیال ہے کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی لازمی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم دونوں کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا۔ بکریاں اور کنیز تمہیں واپس ملیں گی اور تمہارے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ملے گی اور انیس! صبح اس عورت کے پاس جاؤ (اور اگر وہ اقرار کرے تو) اسے رجم کر دو۔ چنانچہ انہوں نے اسے رجم کیا۔ (وہ عورت کہیں اور جگہ تھی) آپ نے اسے رجم کرنے کے لیے انیس کو بھیجا اسی سے باب کا مطلب نکلا۔قسطلانی نے کہا کہ آپ نے جو انیس کو فریق ثانی کی جورو کے پاس بھیجا وہ زنا کی حد مارنے کے لیے نہیں بھیجا کیونکہ زنا کی حد لگانے کے لیے تجسس کرنا یا ڈھونڈنا بھی درست نہیں ہے اگر کوئی خود آ کر بھی زنا کا اقرار کرے اس کے لیے بھی تفتیش کرنا مستحب ہے یعنی یوں کہنا کہ شاید تو نے بوسہ دیا ہو گا یا مساس کیا ہو گا بلکہ آپ نے انیس کو صرف اس لیے بھیجا کہ اس عورت کو خبر کر دیں کہ فلاں شخص نے تجھ پر زنا کی تہمت لگائی ہے۔ اب وہ حد قذف کا مطالبہ کرتی ہے یا معاف کرتی ہے۔ جب انیس اس کے پاس پہنچے تو اس عورت نے صاف طور پر زنا کا اقبال کیا۔ اس اقبال پر انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو حد لگائی اور رجم کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۳۶ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی مقدمے کو بیان کرتی ہے جس میں ایک دیہاتی نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ چاہا۔ معاملہ یہ تھا کہ ایک لڑکا مزدور تھا اور اس نے گھر والے کی بیوی سے زنا کیا۔ لڑکے کے والد نے لوگوں کی بات سن کر سو بکریاں اور ایک کنیز فدیہ میں دے دی، مگر بعد میں اہل علم سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ لڑکے کی حد سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فدیہ واپس کرایا اور لڑکے پر وہی حد مقرر فرمائی۔ عورت کے لیے انیس رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا، اور روایت کے مطابق پھر رجم ہوا۔ اس حدیث میں اہم بات یہ ہے کہ فیصلہ غلط اندازے پر نہیں بلکہ صحیح حکم پر ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں کی غلط بات پر مالی فدیہ دیا گیا، مگر وہ واپس ہوا۔
  • اہل علم سے پوچھنے کے بعد درست حکم واضح ہوا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق فرمایا۔
  • روایت میں حد کے معاملے میں الگ الگ حکم بیان ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں