صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۸ - غلام پر جھوٹی تہمت
تہمت کی حدیث: غلام پر جھوٹا الزام لگانے کا انجام
صحیح بخاری : ۶۸۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۵۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ ، وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ ، جُلِدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .
ابوہریرہ روایت:
جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ غلام اس تہمت سے بَری تھا تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے، سوا اس کے کہ اس کی بات صحیح ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع تہمت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، حالانکہ وہ اس بات سے بری تھا، تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے، سوائے اس کے کہ اس کی بات سچی ہو۔ تہمت کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کمزور یا ماتحت شخص کی عزت بھی محفوظ ہے۔ کسی کے مقام، مالکی تعلق یا سماجی کمزوری کی وجہ سے اس پر بے بنیاد الزام لگانا آسان نہیں سمجھا گیا۔ روایت خاص طور پر غلام کے بارے میں ہے، مگر اس کے الفاظ میں الزام کی سنگینی بہت واضح ہے۔ زبان سے نکلی ہوئی بات قیامت کے دن جواب دہی کا سبب بن سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بے قصور غلام پر تہمت لگانا سخت گناہ ہے۔
- کمزور شخص کی عزت بھی محفوظ ہے۔
- الزام صرف اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب بات واقعی صحیح ہو۔
- زبان کی بے احتیاطی قیامت کی جواب دہی تک لے جا سکتی ہے۔
