صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۰ - زنا کے مقدمے میں شرعی فیصلہ

حد زنا اور اقرار: نبی صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۶۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَا : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا فِي أَهْلِ هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، الْمِائَةُ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَيَا أُنَيْسُ : اغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَسَلْهَا ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ ، فَارْجُمْهَا " فَاعْتَرَفَتْ : فَرَجَمَهَا .

ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی روایت:

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اس پر فریق مخالف کھڑا ہوا، یہ زیادہ سمجھدار تھا اور کہا کہ انہوں نے سچ کہا۔ ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کیجئے اور یا رسول اللہ! مجھے (گفتگو کی) اجازت دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہئے۔انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کرتا تھا پھر اس نے ان کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا۔ میں نے اس کے فدیہ میں ایک سو بکریاں اور ایک خادم دیا پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ملنی چاہئے اور اس کی بیوی کو رجم کیا جائے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق ہی کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ملیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا دی جائے گی اور اے انیس اس عورت کے پاس صبح جانا اور اس سے پوچھنا اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو اسے رجم کرنا، اس عورت نے اقرار کر لیا اور وہ رجم کر دی گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع حد زنا اور کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ ہے۔ دو آدمی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے اور فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کرنے کی درخواست کی۔ ایک شخص نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے دوسرے کی بیوی کے ساتھ زنا کیا، اور اس نے بدلے میں سو بکریاں اور ایک خادم دے دیا تھا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بکریاں اور خادم واپس ہوں گے، بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی ہو گی، اور عورت سے پوچھا جائے؛ اگر وہ اقرار کرے تو اس پر رجم نافذ ہو۔ عورت نے اقرار کیا، پھر حکم نافذ ہوا۔ یہ حد زنا کی حدیث بتاتی ہے کہ ذاتی صلح، مال یا فدیہ شرعی فیصلے کی جگہ نہیں لے سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زنا کے معاملے میں فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کیا گیا۔
  • مالی فدیہ شرعی حد کا بدل نہیں بنا۔
  • اقرار کے بعد عورت کے بارے میں حکم نافذ ہوا۔
  • حدیث میں ہر فریق کے حکم کو الگ الگ بیان کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں