صحیح بخاری حدیث ۶۹۰۰ - حجرہ میں جھانکنے کی ممانعت
حجرہ میں جھانکنے کی حدیث: اجازت کے بغیر دیکھنا منع
صحیح بخاری : ۶۹۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۰۰
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ حُجْرٍ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ ، أَوْ بِمَشَاقِصَ ، وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ " .
انس بن مالک روایت:
ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع پرائیویسی اور اجازت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں جھانکنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اسے مار دیں۔ حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے واقعی چوٹ لگی، بلکہ واقعہ کا زور اس بات پر ہے کہ بلا اجازت کسی کے نجی مقام میں جھانکنا کتنا برا عمل ہے۔ گھر یا حجرہ انسان کی محفوظ جگہ ہوتی ہے۔ اسلام میں اجازت کا حکم اسی لیے ہے کہ نظر بے موقع نہ پڑے اور کسی کی عزت و پردہ محفوظ رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجرہ یا گھر میں بلا اجازت جھانکنا منع ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس عمل پر سخت ناگواری ظاہر فرمائی۔
- اجازت کا مقصد صرف داخلہ نہیں، نظر کی حفاظت بھی ہے۔
