صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۲ - اسلام سے تیر کی طرح نکلنا
خوارج کا اسلام سے نکلنا: تیر والی مثال کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۹۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۳۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَذَكَرَ الْحَرُورِيَّةَ ، فقال : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
´ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن وہب نے، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، کہا ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور انہوں نے حروریہ کا ذکر کیا اور کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر کمان سے باہر ہو جاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۲ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر اس کا مضمون سخت تنبیہ والا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حروریہ کا ذکر کیا اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان بیان کیا کہ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان یا شکار سے نکل جاتا ہے۔ یہاں اصل توجہ کسی نام یا دعوے پر نہیں، بلکہ اس انجام پر ہے جو غلط دینی فہم، شدت اور باطن کی خرابی سے پیدا ہو سکتا ہے۔ حدیث یہ سمجھاتی ہے کہ دین کا صرف نام لینا کافی نہیں۔ مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ دین کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے مطابق سمجھے، قرآن کو دل تک اتارے اور اپنے رویے کو بھی ایمان کے تابع رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کے نام کے ساتھ صحیح فہم بھی ضروری ہے۔
- غلط راستہ انسان کو اسلام کی روح سے دور کر سکتا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے سخت دینی انحراف سے خبردار فرمایا۔
