صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۴ - قرآن پڑھیں گے مگر اثر نہ ہوگا
خوارج اور قرآن: تلاوت دل تک پہنچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۹۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۳۴
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يُسَيْرُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ ، قُلْتُ لِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ : هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي الْخَوَارِجِ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَأَهْوَى بِيَدِهِ قِبَلَ الْعِرَاقِ : " يَخْرُجُ مِنْهُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
یسیر بن عمرو روایت:
میں نے سہل بن حنیف (بدری صحابی) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے سلسلے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اور آپ نے عراق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا تھا کہ ادھر سے ایک جماعت نکلے گی یہ لوگ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے باہر نکل جاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے خوارج کے بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ادھر سے ایک جماعت نکلے گی۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ پھر فرمایا کہ وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت صرف زبان کا عمل نہیں رہنا چاہیے۔ قرآن کا اثر دل، سمجھ اور عمل میں آنا چاہیے۔ ورنہ ظاہری پڑھائی انسان کو صحیح راستے پر ثابت نہیں کرتی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن پڑھنے کے ساتھ اس کا اثر دل اور عمل میں آنا چاہیے۔
- دینی الفاظ کے باوجود غلط فہم انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ظاہری تلاوت کے فریب سے خبردار فرمایا۔
