صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۳ - اعمال کا دارومدار نیت پر ہے
نیت کی حدیث: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے
صحیح بخاری : ۶۹۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۵۳
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ هَاجَرَ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
علقمہ بن وقاص لیثی روایت:
میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے خطبہ میں سنا انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اے لوگو! اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو اسے ہجرت (کا ثواب ملے گا) اور جس کی ہجرت کا مقصد دنیا ہو گی کہ جسے وہ حاصل کر لے یا کوئی عورت ہو گی جس سے وہ شادی کر لے تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۵۳ کا خلاصہ
یہ مشہور حدیث نیت کے بارے میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پھر ہجرت کی مثال دی گئی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو، اس کی ہجرت اسی مقصد کے لیے ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو، اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ اس حدیث میں نیت کی حدیث، اعمال کا دارومدار نیت پر، ہجرت کی نیت اور عمل کے مقصد جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ متن کا پیغام صاف ہے کہ عمل کے پیچھے مقصد بہت معنی رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اعمال کا اعتبار نیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
- انسان کو وہی ملتا ہے جس مقصد کے لیے وہ عمل کرتا ہے۔
- ہجرت جیسا بڑا عمل بھی نیت کے لحاظ سے سمجھا گیا۔
