صحیح بخاری حدیث ۷۰۳ - امام کی نماز میں آسانی
امام کی نماز مختصر کرنے کی حدیث: جماعت میں آسانی کا حکم
صحیح بخاری : ۷۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَإِنَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے تو تخفیف کرے کیونکہ جماعت میں ضعیف بیمار اور بوڑھے (سب ہی) ہوتے ہیں، لیکن اکیلا پڑھے تو جس قدر جی چاہے طول دے سکتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام نماز کی امامت میں آسانی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو نماز مختصر کرے۔ وجہ بھی صاف بتا دی گئی کہ جماعت میں ضعیف، بیمار اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے امام کو صرف اپنی طاقت یا شوق نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ پیچھے کھڑے نمازیوں کی حالت بھی سامنے رکھنی چاہیے۔ یہ حدیث امام کی نماز مختصر کرنے کی حدیث کے طور پر بہت اہم ہے، خاص طور پر جماعت کی نماز میں۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنی مرضی کے مطابق نماز لمبی کر سکتا ہے۔ یعنی جماعت میں دوسروں کا خیال، اور اکیلی نماز میں اپنی طاقت کے مطابق طول؛ یہی اس حدیث کی صاف تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو جماعت میں موجود نمازیوں کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- نماز اتنی لمبی نہ ہو کہ کمزور، بیمار یا بوڑھے نمازیوں کے لیے مشکل بن جائے۔
- اکیلی نماز میں آدمی اپنی طاقت اور رغبت کے مطابق نماز لمبی کر سکتا ہے۔
- جماعت کی نماز میں آسانی اور اعتدال کو سامنے رکھنا چاہیے۔
