صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۸ - عذاب اور اعمال

عذاب الٰہی اور اعمال کے مطابق اٹھایا جانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۰۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۱۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی مضمون عذاب الٰہی اور اعمال کا حساب ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب اس قوم میں موجود لوگوں کو پہنچتا ہے، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ اس میں ایک نہایت اہم بات ہے کہ دنیا میں اجتماعی عذاب یا مصیبت کا اثر سب پر آ سکتا ہے، لیکن آخرت میں معاملہ ہر شخص کے اپنے عمل کے مطابق ہو گا۔ اس لیے اس حدیث کو عذاب کی حدیث، اعمال کا حساب، قیامت میں اٹھایا جانا اور نیکی بدی کے انجام کے حوالے سے تلاش کیا جاتا ہے۔ بات مختصر ہے، مگر انسان کو اپنے عمل کی فکر دلانے والی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دنیا کی مصیبت کبھی ایک علاقے یا قوم کے سب لوگوں کو پہنچ سکتی ہے۔
  • آخرت میں ہر شخص کا معاملہ اس کے اپنے اعمال کے مطابق ہو گا۔
  • صرف کسی قوم میں موجود ہونا آخری فیصلہ نہیں، اصل وزن اعمال کا ہے۔
  • انسان کو اپنے عمل کی اصلاح کی فکر رکھنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں