صحیح بخاری حدیث ۷۱۳۸ - ہر شخص نگہبان ہے
ہر شخص نگہبان ہے: ذمہ داری کی جامع حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۳۸
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام (امیرالمؤمنین) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پرسش ہو گی۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۱۳۸ کا خلاصہ
یہ حدیث ذمہ داری کے بارے میں بہت صاف اور عملی بات کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پھر مثالیں بیان فرمائیں: امام لوگوں کا نگہبان ہے، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچوں کی نگہبان ہے، اور غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے۔ آخر میں پھر تاکید آئی کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس حدیث میں قیادت، گھر کی ذمہ داری، بچوں کی دیکھ بھال، اور مال کی حفاظت سب کا ذکر موجود ہے۔ کُلُّکُم راع، ذمہ داری کی حدیث، اور ہر شخص نگہبان ہے جیسے سرچ الفاظ اسی مضمون کو بیان کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر شخص اپنی جگہ کسی نہ کسی ذمہ داری کا حامل ہے۔
- امام، گھر کے مرد، عورت، اور غلام کی ذمہ داری الگ الگ بیان ہوئی ہے۔
- ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال ہونے کا ذکر ہے۔
