صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۷ - امارت کی طلب اور قسم کا کفارہ
امارت کی طلب سے بچنے والی حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۴۷
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَن ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ " .
عبدالرحمٰن بن سمرہ روایت:
ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن ابن سمرہ! حکومت طلب مت کرنا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد امیری ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر تم کسی بات پر قسم کھا لو اور پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو وہ کرو جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۱۴۷ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حکومت طلب مت کرنا۔ امارت کی خواہش بظاہر عزت لگ سکتی ہے، مگر حدیث بتاتی ہے کہ جو اسے مانگ کر لے، اسے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف جو ذمہ داری بغیر مانگے دی جائے، اس میں مدد کی بات آئی ہے۔ اسی روایت میں قسم کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر کوئی آدمی قسم کھا لے اور بعد میں اسے معلوم ہو کہ دوسری بات زیادہ بہتر ہے، تو وہ بہتر بات اختیار کرے اور قسم کا کفارہ ادا کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین ضد نہیں سکھاتا، بلکہ بھلائی کو اختیار کرنا سکھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منصب کی خواہش انسان کے لیے آزمائش بن سکتی ہے۔
- بغیر مانگے ذمہ داری ملے تو اسے سنجیدگی سے ادا کرنا چاہیے۔
- قسم کھانے کے بعد بہتر راستہ واضح ہو تو کفارہ دے کر بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔
- دینی فیصلوں میں بھلائی کو مقدم رکھنا چاہیے۔
