صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۶ - لعان کا شرعی طریقہ
لعان کی حدیث: الزام میں جلد بازی نہیں، شرعی طریقہ اختیار کریں
صحیح بخاری : ۷۱۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۶۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ ، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ .
سہل روایت:
قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر سکتا ہے؟ پھر دونوں (میاں بیوی) میں میری موجودگی میں لعان کرایا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع لعان ہے۔ ایک انصاری شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر سکتا ہے؟ حدیث کے متن میں جواب کے طور پر یہ بتایا گیا کہ بعد میں میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا گیا، اور راوی سہل رضی اللہ عنہ خود وہاں موجود تھے۔ اس سے بات صاف سمجھ آتی ہے کہ ایسے نازک معاملے میں جذبات، غصہ یا ذاتی فیصلہ کافی نہیں۔ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا اور پھر شرعی طریقہ اپنایا گیا۔ لعان کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عزت، گھر اور نکاح سے جڑے بڑے مسئلے میں زبان، الزام اور عمل سب بہت احتیاط چاہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنگین گھریلو الزام میں فوری ذاتی کارروائی کے بجائے شرعی فیصلہ لیا جائے۔
- لعان ایک شرعی طریقہ ہے جس کا ذکر اس واقعے میں آیا ہے۔
- غصے کے وقت بھی معاملہ اہل حکم کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
- حدیث میں قتل کے بجائے لعان کا واقعہ بیان ہوا، اس لیے جذباتی قدم سے بچنا چاہیے۔
