صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۱ - بدگمانی سے بچاؤ

بدگمانی سے بچنے کی حدیث: بات صاف کر دینا بہتر ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۷۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، فَلَمَّا رَجَعَتِ انْطَلَقَ مَعَهَا ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَدَعَاهُمَا ، فَقَالَ : إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ ، قَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ " ، رَوَاهُ شُعَيْبٌ ، وَابْنُ مُسَافِرٍ ، وابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، وإسحاق بن يحيى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

زین العابدین علی بن حسین روایت:

صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا (رات کے وقت) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے) جب وہ واپس آنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا، سبحان اللہ (کیا ہم آپ پر شبہ کریں گے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔اس کی روایت شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ نقل کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع بدگمانی سے بچاؤ ہے۔ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، جبکہ آپ مسجد میں معتکف تھے۔ جب وہ واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ چلے۔ راستے میں دو انصاری صحابی گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ دونوں نے سبحان اللہ کہا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔ اس حدیث سے سادہ بات سمجھ آتی ہے کہ کبھی کبھی اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے دل میں وسوسہ آنے سے بچانے کے لیے بات واضح کر دینا بہتر ہوتا ہے۔ بدگمانی کی حدیث میں احتیاط، شفافیت اور دلوں کی حفاظت کا پہلو موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایسی صورت میں وضاحت کر دینا بہتر ہے جہاں بدگمانی کا امکان ہو۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے دلوں کو وسوسے سے بچایا۔
  • شیطان انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکتا ہے۔
  • شفاف رویہ تعلقات میں اعتماد کو محفوظ رکھتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں