صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۳ - قیدی کی رہائی اور دعوت
قیدیوں کو چھڑاؤ اور دعوت قبول کرو: خدمت اور تعلق کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۱۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۷۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَجِيبُوا الدَّاعِيَ " .
ابوموسیٰ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیدیوں کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۱۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قیدی کی رہائی اور دعوت قبول کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیدیوں کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔ الفاظ کم ہیں مگر پیغام صاف ہے۔ ایک طرف ایسا شخص ہے جو قید میں ہے اور مدد کا محتاج ہے، دوسری طرف دعوت دینے والا ہے جو تعلق، عزت اور میل جول کا دروازہ کھولتا ہے۔ حدیث کے متن میں یہی دو کام بیان ہوئے ہیں، اس لیے اسی حد تک بات رہنی چاہیے۔ قیدیوں کی رہائی کی حدیث ہمیں کمزور اور گرفتار لوگوں کی مدد کا احساس دلاتی ہے، اور دعوت قبول کرنے کی حدیث معاشرتی رابطے کو زندہ رکھتی ہے۔ یہاں خدمت بھی ہے اور بھائی چارہ بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیدیوں کو چھڑانے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- حدیث میں مدد اور معاشرتی تعلق دونوں کا ذکر ہے۔
- کم الفاظ میں عملی دینی رہنمائی دی گئی ہے۔
