صحیح بخاری حدیث ۷۲۲۴ - عشاء کی جماعت میں سستی پر تنبیہ

نماز عشاء کی جماعت: سستی کرنے والوں کے لیے سخت تنبیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۲۴

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ يُحْتَطَبُ ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا ، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ : قَالَ يُونُسُ : قَالَ مُحَمَّد بْنُ سُلَيْمَانُ : قَالَ أَبو عَبْدَ اللهِ : مَرْمَاهُ مَا بَيْنَ خَلف الشاة مِنَ اللحم مِثْلَ منسأة وميضأة الميم مخفوضه .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ارادہ ہوا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کے بجائے ان لوگوں کے پاس جاؤں (جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم سے کسی کو اگر یہ امید ہو کہ وہاں موٹی ہڈی یا دو «مرماة حسنتين» بکری کے کھر کے درمیان کا گوشت ملے گا تو وہ ضرور (نماز) عشاء میں شریک ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۷۲۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نماز باجماعت ہے، خاص طور پر عشاء کی نماز۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ میرا ارادہ ہوا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان کہلواؤں، پھر کسی شخص کو لوگوں کی امامت کا حکم دوں، اور پھر ان مردوں کے پاس جاؤں جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے، اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو موٹی ہڈی یا بکری کے کھر کے درمیان کا گوشت ملنے کی امید ہو تو وہ عشاء میں ضرور حاضر ہو۔ اس حدیث میں جماعت چھوڑنے پر سخت تنبیہ اور دنیاوی لالچ کے مقابلے میں دینی غفلت کا ذکر ہے۔ متن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عشاء کی جماعت میں غیر حاضری کو بہت سنجیدہ معاملہ سمجھایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز باجماعت، خاص طور پر عشاء کی جماعت، بہت اہم ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے جماعت چھوڑنے والوں کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی۔
  • دنیاوی فائدے کے لیے جلدی کرنا اور نماز میں سستی کرنا قابل توجہ غلطی ہے۔
  • حدیث میں عشاء کی نماز کے لیے حاضر ہونے پر خاص زور آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں