صحیح بخاری حدیث ۷۲۵۴ - ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امانت
امانت داری کی حدیث: ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا مقام
صحیح بخاری : ۷۲۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۲۵۴
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ : "لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا ”میں تمہارے پاس ایک امانت دار آدمی جو حقیقی امانت دار ہو گا بھیجوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ منتظر رہے (کہ کون اس صفت سے موصوف ہے) تو آپ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۲۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی امانت داری کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا کہ میں تمہارے پاس ایک امانت دار آدمی بھیجوں گا، جو حقیقی امانت دار ہو گا۔ صحابہ کرام اس بات کے منتظر رہے کہ اس بڑی صفت کے لیے کس کو بھیجا جائے گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ اس روایت کا اصل موضوع امانت، قابل اعتماد شخصیت، اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔ امانت داری کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ بات بہت صاف ہے کہ امانت صرف دعویٰ نہیں، ایسا وصف ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو خاص کام کے لیے منتخب فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت داری ایک بڑی دینی صفت ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو حقیقی امانت دار قرار دیا۔
- اہم کام کے لیے قابل اعتماد شخص کو منتخب کیا گیا۔
- صحابہ اس فضیلت کے امیدوار تھے، مگر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا۔
