صحیح بخاری حدیث ۷۳ - رشک صرف دو باتوں میں
رشک کن دو لوگوں پر جائز ہے؟
صحیح بخاری : ۷۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت (کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور (لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ یہاں حسد سے مراد وہ رشک ہے جس میں آدمی دوسرے کی نعمت ختم ہونے کی خواہش نہیں کرتا، بلکہ خود بھی ایسی بھلائی چاہتا ہے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی، پھر وہ اس حکمت کے ذریعے فیصلہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی مضمون مال کا صحیح استعمال، حکمت کی قدر اور علم کی تعلیم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل قابل رشک چیز صرف مال رکھنا نہیں، بلکہ مال کو حق میں خرچ کرنا ہے، اور صرف علم رکھنا نہیں، بلکہ اس کے مطابق فیصلہ کرنا اور اسے سکھانا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال قابل رشک تب ہے جب اسے حق میں خرچ کیا جائے۔
- حکمت کی نعمت فیصلہ اور تعلیم میں استعمال ہونی چاہیے۔
- دوسروں کی بھلائی دیکھ کر خود بھی نیکی کی خواہش رکھنا درست ہے۔
- علم اور مال دونوں اللہ کی عطا ہیں، ان کا استعمال اہم ہے۔
