صحیح بخاری حدیث ۷۳۰۶ - مدینہ کی حرمت اور دین میں نئی بات
مدینہ کی حرمت کی حدیث: دین میں نئی بات سے سخت بچاؤ
صحیح بخاری : ۷۳۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۰۶
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسٍ : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ؟ ، قَالَ: نَعَمْ ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا لَا يُقْطَعُ شَجَرُهَا مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " ، قَالَ عَاصِمٌ : فَأَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَوْ آوَى مُحْدِثًا .
عاصم روایت:
میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیا ہے؟ فرمایا کہ ہاں فلاں جگہ عیر سے فلاں جگہ (ثور) تک۔ اس علاقہ کا درخت نہیں کاٹا جائے گا جس نے اس حدود میں کوئی نئی بات پیدا کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ عاصم نے بیان کیا کہ پھر مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی کہ انس رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ ”یا کسی نے دین میں بدعت پیدا کرنے والے کو پناہ دی۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۳۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مدینہ کی حرمت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کو ایک خاص حد کے اندر حرمت والا شہر قرار دیا۔ اس علاقے کے بارے میں فرمایا گیا کہ اس کا درخت نہیں کاٹا جائے گا۔ پھر حدیث میں ایک بڑی تنبیہ آئی کہ جو شخص اس حدود میں کوئی نئی بات پیدا کرے، یا دین میں نئی بات پیدا کرنے والے کو پناہ دے، اس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ یہاں مدینہ کی حرمت حدیث صرف شہر کے احترام کی بات نہیں کرتی، بلکہ دین میں بدعت اور غلط کام کو سہارا دینے سے بھی روکتی ہے۔ مومن کے لیے سبق یہ ہے کہ مقدس مقامات، دینی حدود اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ہدایات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مدینہ کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حرمت والا شہر قرار دیا۔
- مدینہ کے مقررہ علاقے کے درخت کاٹنے سے منع کیا گیا۔
- دین میں نئی بات پیدا کرنا یا ایسے شخص کو پناہ دینا سخت وعید کا سبب ہے۔
- دینی حدود کا احترام ایمان والے کے رویے میں صاف نظر آنا چاہیے۔
