صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۹ - لہسن پیاز اور مسجد کا ادب

لہسن اور پیاز کی حدیث: مسجد میں دوسروں کو اذیت نہ دیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۵۹

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا ، أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ " ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : يَعْنِي : طَبَقًا فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا ، فَسَأَلَ عَنْهَا ؟ ، فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ ، فَقَالَ : قَرِّبُوهَا ، فَقَرَّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا ، قَالَ : كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي ، وَقَالَ ابْنُ عُفَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ وَأَبُو صَفْوَانَ ، عَنْ يُونُسَ قِصَّةَ الْقِدْرِ فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ فِي الْحَدِيثِ .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کچی لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا (یہ فرمایا کہ) ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے (یہاں تک کہ وہ بو رفع ہو جائے) اور آپ کے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں سبزیاں تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی، پھر آپ کو اس میں رکھی ہوئی سبزیوں کے متعلق بتایا گیا تو آپ نے اپنے بعض صحابی کی طرف جو آپ کے ساتھ تھے اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کے پاس لے جاؤ لیکن جب ان صحابی نے اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانا پسند نہیں کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے فرمایا کہ تم کھا لو کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے۔ (آپ کی مراد فرشتوں سے تھی) سعید بن کثیر بن عفیر نے جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں، عبداللہ بن وہب سے اس حدیث میں یوں روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں اور لیث و ابوصفوان عبداللہ بن سعید اموی نے بھی اس حدیث کو یونس سے روایت کیا لیکن انہوں نے ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا، اب میں نہیں جانتا کہ ہانڈی کا قصہ حدیث میں داخل ہے یا زہری نے بڑھا دیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۳۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کچا لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے، یا ہماری مسجد سے دور رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔ اس کی وجہ متن سے یہ سمجھ آتی ہے کہ ان چیزوں کی بو ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سبزیوں کا طباق یا ہانڈی لائی گئی، آپ نے اس میں بو محسوس کی اور اسے بعض صحابی کی طرف بھیجنے کا فرمایا۔ جب صحابی نے کھانا پسند نہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کھا لو، کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے۔ اس حدیث کا موضوع ‘مسجد کا ادب’، ‘لہسن پیاز کی حدیث’ اور ‘بدبو سے بچنا’ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کچا لہسن یا پیاز کھا کر مسجد آنے سے بچنے کا حکم بیان ہوا۔
  • مسجد میں دوسروں کو بو سے تکلیف نہ دی جائے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاص حال کی وجہ سے اسے نہ کھایا۔
  • کھانے کی اجازت اور مسجد کے ادب کو الگ الگ سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں