صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۴ - قرآن پڑھو جب دل ملے رہیں

قرآن پڑھنے کا ادب: اتفاق رہے تو پڑھو، اختلاف ہو تو رک جاؤ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۶۴

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَلَّامًا .

جندب بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہارے دل ملے رہیں قرآن پڑھو اور جب تم میں اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۳۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک تمہارے دل ملے رہیں قرآن پڑھو، اور جب تم میں اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ۔ یہ بہت مختصر مگر صاف حدیث ہے۔ اس کا موضوع ‘قرآن پڑھنے کا ادب’ اور ‘اختلاف سے بچاؤ’ ہے۔ اس میں قرآن چھوڑنے کی بات نہیں، بلکہ اختلاف اور جھگڑے کی حالت میں بحث روکنے کا ادب بتایا گیا ہے۔ جب دلوں میں نرمی، قبولیت اور اتفاق ہو تو تلاوت اور بات فائدہ دیتی ہے۔ لیکن جب بات اختلاف، ضد یا بحث میں بدلنے لگے تو رک جانا بہتر ہے۔ یہ حدیث قرآن کے ساتھ سنجیدگی اور آپس کے تعلق کو بچانے کا طریقہ سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن پڑھتے وقت دلوں کا اتفاق اور نرمی اہم ہے۔
  • اختلاف شروع ہو جائے تو بحث کو آگے بڑھانے کے بجائے رک جانا چاہیے۔
  • حدیث قرآن کے احترام اور باہمی تعلق دونوں کی حفاظت سکھاتی ہے۔
  • دینی گفتگو کو جھگڑے میں بدلنے سے بچانا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں