صحیح بخاری حدیث ۷۳۸۷ - نماز میں مغفرت کی جامع دعا
نماز میں مغفرت کی دعا: اللهم إني ظلمت نفسي
صحیح بخاری : ۷۳۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۳۸۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي ، قَالَ : قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا، ولا يغفر الذنوب إلا أنت، فاغفر لي من عندك مغفرة، إنك أنت الغفور الرحيم".» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا، پس میرے گناہ اپنے پاس سے بخش دے، بلاشبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۳۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز میں دعا اور استغفار کی تعلیم دیتی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے ایسی دعا سکھا دیں جو میں اپنی نماز میں پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی کہ اے اللہ، میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا، تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا، پس مجھے اپنی طرف سے بخش دے، بے شک تو بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اس دعا میں بندہ پہلے اپنی کمی مانتا ہے، پھر اللہ کی مغفرت کو تسلیم کرتا ہے۔ نماز میں مغفرت کی دعا، دعا مسورہ، اور اللهم إني ظلمت نفسي جیسے الفاظ اسی حدیث سے جڑے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بندے کو اللہ کے سامنے اپنی غلطی ماننی چاہیے۔
- گناہوں کی معافی صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔
- نماز میں عاجزی کے ساتھ دعا کرنا مسنون ہے۔
- رحمت اور مغفرت دونوں اللہ ہی سے طلب کی جاتی ہیں۔
