صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۷ - شرک نہ کرنے کی فضیلت
توحید کی حدیث: شرک نہ کرنے والے کے لیے جنت کی بشارت
صحیح بخاری : ۷۴۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۸۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : وَإِنْ سَرَقَ ، وَإِنْ زَنَى ، قَالَ : وَإِنْ سَرَقَ ، وَإِنْ زَنَى " .
ابوذر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مرے گا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو گا تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا گو اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ فرمایا کہ گو اس نے چوری اور زنا کیا ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع توحید ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور یہ خوش خبری دی کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں جائے گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگر اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے چوری اور زنا کیا ہو تب بھی۔ اس حدیث میں توحید کی بہت بڑی قدر بیان ہوئی ہے، مگر ساتھ ہی متن میں یہ بھی صاف ہے کہ چوری اور زنا کو اچھا نہیں کہا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ شرک سے پاک ایمان جنت کی بنیاد ہے۔ گناہ کو گناہ ہی سمجھنا چاہیے، مگر اللہ کی توحید بندے کے انجام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ایمان کی بنیاد ہے۔
- بڑے گناہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، مگر شرک سب سے بڑا خطرہ ہے۔
- حدیث میں توحید رکھنے والے کے لیے جنت کی بشارت دی گئی ہے۔
- سوال و جواب سے حدیث کا مطلب مزید واضح ہو جاتا ہے۔
