صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۷ - خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت
خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت: رب کا سلام اور جنت کی بشارت
صحیح بخاری : ۷۴۹۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۹۷
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : " هَذِهِ خَدِيجَةُ أَتَتْكَ بِإِنَاءٍ فِيهِ طَعَامٌ ، أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَأَقْرِئْهَا مِنْ رَبِّهَا السَّلَامَ ، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " .
ابوہریرہ روایت:
جبرائیل علیہ السلام نے کہا: یا رسول اللہ!) یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کے پاس برتن میں کھانا یا پانی لے کر آتی ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہئیے اور انہیں خولدار موتی کے ایک محل کی جنت میں خوشخبری سنائیے جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۹۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ہے۔ روایت میں بتایا گیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن میں کھانا یا پانی لے کر آئیں۔ اس موقع پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیے اور جنت میں خولدار موتی کے ایک گھر کی خوش خبری دیجیے، جس میں نہ شور ہو گا اور نہ تکلیف ہو گی۔ حدیث میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے خاص سلام اور خاص بشارت کا ذکر ہے۔ اس سے ان کے مقام، خدمت اور اللہ کے ہاں عزت کا پتہ چلتا ہے۔ متن میں جو بات آئی ہے وہی کافی ہے: رب کی طرف سے سلام، جنت کا گھر، اور اس گھر کا سکون۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خدیجہ رضی اللہ عنہا کو رب کی طرف سے سلام پہنچایا گیا۔
- ان کے لیے جنت میں ایک پرسکون گھر کی بشارت دی گئی۔
- حدیث میں ان کی خدمت کے موقع پر فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- جنت کے گھر کی صفت میں نہ شور کا ذکر ہے نہ تکلیف کا۔
