صحیح بخاری حدیث ۷۵۵۳ - میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے

اللہ کی رحمت کی حدیث: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۵۳

وقَالَ لِي خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ كِتَابًا عِنْدَهُ غَلَبَتْ ، أَوْ قَالَ : سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ " .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ جب خلقت کا پیدا کرنا ٹھہرا چکا (یا جب خلقت پیدا کر چکا) تو اس نے عرش کے اوپر اپنے پاس ایک کتاب لکھ کر رکھی اس میں یوں ہے میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یا میرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۷۵۵۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کی رحمت ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کا فیصلہ کر کے اپنے پاس عرش کے اوپر ایک کتاب لکھ رکھی ہے۔ اس میں ہے کہ میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے، یا میری رحمت میرے غضب سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اس حدیث میں رحمت الہی، غضب الہی، عرش، اور اللہ کی لکھی ہوئی کتاب کا ذکر آتا ہے۔ یہ حدیث بندے کو اللہ کی رحمت کی طرف امید دلاتی ہے، مگر اس میں بے خوفی یا گناہ پر اصرار کی بات نہیں کی گئی۔ اصل الفاظ کے مطابق بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ذکر بہت بڑی امید کا سبب ہے۔
  • حدیث میں اللہ کے عرش کے اوپر لکھی ہوئی کتاب کا ذکر ہے۔
  • رحمت کا بیان گناہ پر بے فکر ہونے کی اجازت نہیں بناتا۔
  • اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کو اسی طرح ماننا چاہیے جیسے حدیث میں آئی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں