صحیح بخاری حدیث ۷۵۵۶ - ایمان باللہ کے جامع احکام
ایمان باللہ کی حدیث: وفد عبدالقیس کو چار حکم
صحیح بخاری : ۷۵۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۵۶
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرٍ حُرُمٍ ، فَمُرْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الْأَمْرِ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو إِلَيْهَا مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ : آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ ، عَنْ أَرْبَعٍ ، آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَتُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالظُّرُوفِ الْمُزَفَّتَةِ ، وَالْحَنْتَمَةِ " .
ابوجمرہ ضبعی روایت:
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو آپ نے فرمایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آ سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کچھ ایسے جامع احکام ہمیں بتا دیجئیے کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو جنت میں جائیں اور ان کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ اس کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں، یہ کہ کدو کی تونبی اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور روغنی برتنوں اور سبز لاکھی برتنوں میں مت پیا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ایمان ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے جامع احکام مانگے تاکہ خود عمل کریں اور پیچھے والوں کو بھی بتائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار کاموں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے روکا۔ ایمان باللہ کی وضاحت میں لا الہ الا اللہ کی گواہی، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، اور غنیمت کا خمس دینا بیان ہوا۔ پھر خاص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا۔ حدیث میں ایمان، نماز، زکوٰۃ، خمس، اور دعوت جیسے الفاظ اصل مضمون ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان باللہ کی عملی شکل میں گواہی، نماز اور زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے۔
- دینی علم لے کر پیچھے رہ جانے والوں تک پہنچانا اچھا عمل ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والوں کو جامع جواب دیا۔
- حدیث میں چند مخصوص برتنوں میں پینے سے منع کیا گیا ہے۔
