صحیح بخاری حدیث ۷۶۶ - اذان کے مسائل کے بیان میں
صحیح بخاری : ۷۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۶۶
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ ، فَقَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 ، فَسَجَدَ فَقُلْتُ لَهُ : قَالَ : سَجَدْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " .
ابورافع روایت:
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں آپ نے «إذا السماء انشقت» پڑھی اور سجدہ (تلاوت) کیا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی (اس آیت میں تلاوت کا) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاؤں۔
