صحیح بخاری حدیث ۷۶۸ - اذان کے مسائل کے بیان میں
صحیح بخاری : ۷۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۶۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ الْعَتَمَةَ ، فَقَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 ، فَسَجَدَ فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " .
ابورافع روایت:
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عشاء پڑھی، آپ نے «إذا السماء انشقت» اور سجدہ کیا۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ سجدہ کیسا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس سورت میں میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ کیا تھا۔ اس لیے میں بھی ہمیشہ اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ آپ سے مل جاؤں۔
