صحیح بخاری حدیث ۸۰۱ - رکوع و سجود میں توازن

رکوع اور سجدہ کا درست طریقہ: نماز میں توازن کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۰۱

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ رُكُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُجُودُهُ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .

براء بن عازب روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۸۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث نماز کا طریقہ سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا قیام اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر ہوتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز جلدی جلدی ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ ہر رکن کو اطمینان سے ادا کرنا نماز کی خوبصورتی ہے۔ رکوع اور سجدہ کی حدیث تلاش کرنے والے لوگ عموماً یہی جاننا چاہتے ہیں کہ نماز میں ٹھہراؤ کیسا ہو۔ اس روایت میں اصل بات یہی ہے کہ نماز کے اہم حصوں میں توازن، سکون اور ٹھہراؤ رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے رکوع اور سجدے کو سکون کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
  • رکوع کے بعد کھڑے ہونے میں بھی مناسب ٹھہراؤ ہونا چاہیے۔
  • دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا نماز کا مستقل حصہ ہے، اسے جلدی نہ کیا جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں