صحیح بخاری حدیث ۸۳ - حج میں لا حرج کی آسانی

حج کے اعمال میں بھول چوک: لا حرج کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۳

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ فَقَالَ : اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ ، فَجَاءَ آخَرُ ، فَقَالَ : لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ : ارْمِ وَلَا حَرَجَ ، فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ : افْعَلْ وَلَا حَرَجَ " .

عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:

حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مسائل دریافت کرنے کی وجہ سے منیٰ میں ٹھہر گئے۔ تو ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ میں نے بےخبری میں ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اب) ذبح کر لے اور کچھ حرج نہیں۔پھر دوسرا آدمی آیا، اس نے کہا کہ میں نے بےخبری میں رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اب) رمی کر لے۔ (اور پہلے کر دینے سے) کچھ حرج نہیں۔ ابن عمرو کہتے ہیں (اس دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کا بھی سوال ہوا، جو کسی نے آگے اور پیچھے کر لی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ اب کر لے اور کچھ حرج نہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے سوالات سن رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا کہ میں نے ذبح سے پہلے سر منڈا لیا۔ آپ نے فرمایا: اب ذبح کر لو، کچھ حرج نہیں۔ دوسرے نے کہا کہ میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی۔ آپ نے فرمایا: اب رمی کر لو، کچھ حرج نہیں۔ اس دن جس شخص نے بھی حج کے کسی عمل کو آگے پیچھے کرنے کے بارے میں پوچھا، آپ نے یہی فرمایا کہ کر لو، کچھ حرج نہیں۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ بےخبری میں ہونے والی ترتیب کی غلطی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسانی فرمائی۔ حج میں لا حرج کی یہ حدیث دین کی سہولت کو واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج کے بعض اعمال میں بےخبری سے ترتیب بدل جائے تو اس روایت میں آسانی بیان ہوئی ہے۔
  • مسئلہ پیش آئے تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سوالات تحمل سے سنتے تھے۔
  • دین میں بےجا سختی کے بجائے نص کے مطابق آسانی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں