صحیح بخاری حدیث ۸۳۲ - نماز میں عذاب قبر اور فتنے سے پناہ
نماز کی دعا: عذاب قبر، دجال اور قرض سے پناہ
صحیح بخاری : ۸۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۳۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ ، فَقَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ".
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، وأعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات، اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے۔کسی (یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو قرض سے بہت ہی زیادہ پناہ مانگتے ہیں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مقروض ہو جائے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلاف ہو جاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۸۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے اندر پڑھی جانے والی ایک دعا کا ذکر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نماز میں عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنے سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، گناہ سے اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ جب قرض سے بار بار پناہ مانگنے کی وجہ پوچھی گئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب مقروض ہو جاتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف کر جاتا ہے۔ اس روایت میں دعا قبل السلام، عذاب قبر سے پناہ، دجال کے فتنے سے پناہ، اور قرض سے پناہ جیسے موضوعات آتے ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ نماز میں اللہ سے ایسی چیزوں سے بچنے کی دعا کی جائے جو دین اور اخلاق کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر قرض کے ساتھ جھوٹ اور وعدہ خلافی کا خطرہ بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نماز میں عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
- دجال کے فتنے سے پناہ مانگنا اس دعا میں شامل ہے۔
- زندگی اور موت کے فتنے سے پناہ کا ذکر آیا ہے۔
- قرض کے بارے میں جھوٹ اور وعدہ خلافی کا خطرہ متن میں بیان ہوا ہے۔
