صحیح بخاری حدیث ۸۳۹ - بچپن کی یاد اور روایت
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی یادداشت اور حدیث
صحیح بخاری : ۸۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۳۹
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَزَعَمَ أَنَّهُ عَقَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَقَلَ مَجَّةً مَجَّهَا مِنْ دَلْوٍ كَانَ فِي دَارِهِمْ .
محمود بن ربیع روایت:
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح یاد ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے گھر کے ڈول سے کلی کرنا بھی یاد ہے (جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ میں ڈالی تھی)۔
صحیح بخاری حدیث ۸۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی یادداشت سے متعلق ہے۔ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ محمود بن ربیع کہتے تھے کہ انہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پوری طرح یاد ہیں، اور انہیں وہ کلی بھی یاد ہے جو آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے گھر کے ڈول سے لے کر ان کے منہ میں ڈالی تھی۔ اس حدیث کا موضوع نماز کے کسی عمل سے زیادہ روایت کی یادداشت اور صحابی کا اپنا مشاہدہ ہے۔ متن میں صرف اتنی بات ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو یاد رکھا اور ایک خاص واقعہ بھی یاد رکھا۔ اس لیے اس کی تشریح میں یہی کہنا مناسب ہے کہ صحابہ اپنے مشاہدات کو محفوظ رکھتے تھے۔ محمود بن ربیع حدیث، بچپن کی یاد، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ڈول سے کلی کرنا اس روایت کے نمایاں سرچ الفاظ ہیں۔ اضافی پس منظر شامل کیے بغیر متن کی سادہ بات یہی ہے کہ ایک صحابی نے اپنی یاد کو روایت کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو یاد رکھنے کا ذکر کیا۔
- گھر کے ڈول سے کلی کا خاص واقعہ انہیں یاد تھا۔
- روایت ایک ذاتی مشاہدے کو نقل کرتی ہے۔
- حدیث کے نقل میں یادداشت اور مشاہدہ دونوں اہم دکھائی دیتے ہیں۔
