صحیح بخاری حدیث ۸۶۹ - عورتوں کے مسجد آنے کا ادب
عورتوں کے مسجد آنے میں ادب اور احتیاط
صحیح بخاری : ۸۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ " ، قُلْتُ : لِعَمْرَةَ أَوَ مُنِعْنَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ .
عائشہ روایت:
آج عورتوں میں جو نئی باتیں پیدا ہو گئی ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ لیتے تو ان کو مسجد میں آنے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔
صحیح بخاری حدیث ۸۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں میں پیدا ہونے والی نئی باتیں دیکھ لیتے تو انہیں مسجد میں آنے سے روک دیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ پھر پوچھا گیا کہ کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو روکا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع عورتوں کا مسجد جانا، مسجد کا ادب، اور بدلتے طرز عمل پر تنبیہ ہے۔ اس متن سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسجد آنے کے ساتھ ادب اور مناسب طریقہ بھی ضروری ہے۔ تشریح میں یہ بات بڑھا کر نہیں کہنی چاہیے کہ ہر حال میں روکنا لازم ہے، کیونکہ حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک خاص تبصرہ نقل ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں کے نئے طرز عمل پر تنبیہ فرمائی۔
- مسجد آنے کے ساتھ ادب اور مناسب رویہ بھی اہم ہے۔
- حدیث میں بنی اسرائیل کی عورتوں کے روکے جانے کا ذکر آیا ہے۔
- دینی جگہوں پر طرز عمل کا اثر اہم سمجھا گیا۔
