صحیح بخاری حدیث ۸۷۵ - سلام کے بعد عورتوں کا نکلنا

سلام کے بعد عورتوں کے پہلے نکلنے کا بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۷۵

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْد ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلْمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِى تَسْلِيمَهُ وَهُوَ يَمْكُثُ فِي مَقَامِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ ، قَالَتْ : نُرَى وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لِكَيْ يَنْصَرِفَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ الرِّجَالُ " .

ام سلمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھڑے نہ ہوتے۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں، آگے اللہ جانے، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں۔

صحیح بخاری حدیث ۸۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں فوراً اٹھ جاتیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر اپنی جگہ ٹھہرے رہتے۔ روایت میں زہری رحمہ اللہ کا یہ قول بھی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کہ یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز کے بعد خواتین کا خروج، مسجد کا نظم، اور سلام کے بعد کا ادب ہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ وجہ کو حتمی انداز میں نہیں، بلکہ محتاط الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے تشریح میں بھی یہی نرمی رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عورتیں سلام کے بعد فوراً اٹھ جاتی تھیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر اپنی جگہ ٹھہرتے تھے۔
  • زہری رحمہ اللہ نے وجہ کو اللہ کے علم کے ساتھ منسوب کیا۔
  • جماعت کے بعد نکلنے میں نظم کا خیال رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں