صحیح بخاری حدیث ۸۸۴ - جمعہ کے غسل کا حکم
جمعہ کے غسل کا حکم اور خوشبو کے بارے میں احتیاط
صحیح بخاری : ۸۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ طَاوُسٌ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَأَصِيبُوا مِنَ الطِّيبِ " ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي .
طاؤس بن کیسان روایت:
میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن اگرچہ جنابت نہ ہو لیکن غسل کرو اور اپنے سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ غسل کا حکم تو ٹھیک ہے لیکن خوشبو کے متعلق مجھے علم نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۸۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں جمعہ کے غسل کے بارے میں ایک اہم علمی انداز نظر آتا ہے۔ طاؤس بن کیسان رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ لوگ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی طرف یہ بات بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن غسل کرو، سر دھوؤ، اگر جنابت نہ بھی ہو، اور خوشبو لگاؤ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ غسل کا حکم تو ٹھیک ہے، لیکن خوشبو کے متعلق مجھے علم نہیں۔ اس حدیث کا اصل سبق صرف جمعہ کا غسل نہیں، بلکہ علم میں احتیاط بھی ہے۔ جب کسی بات کا پورا علم نہ ہو تو اسے یقینی انداز میں بیان نہیں کرنا چاہیے۔ جمعہ کے دن پاکیزگی ثابت ہے، مگر خوشبو کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنی معلومات تک بات محدود رکھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جمعہ کے دن غسل کی بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے درست قرار دی۔
- جس بات کا علم نہ ہو، اسے صاف الفاظ میں نہ جاننے کا کہنا علمی امانت ہے۔
- دین کی بات بیان کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
