صحیح بخاری حدیث ۸۸۷ - ہر نماز کے ساتھ مسواک کی فضیلت
مسواک کی حدیث: ہر نماز کے ساتھ منہ کی صفائی کی ترغیب
صحیح بخاری : ۸۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۸۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے ان کو مسواک کا حکم دے دیتا۔
صحیح بخاری حدیث ۸۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مسواک کی بڑی اہمیت بیان فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت یا لوگوں پر مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دے دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسواک ایک پسندیدہ اور پاکیزہ عمل ہے، خاص طور پر نماز سے پہلے۔ ساتھ ہی اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی امت پر نرمی بھی دکھائی دیتی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ایسی بات کو لازمی حکم نہیں بنایا جس سے لوگوں کو مشکل ہو سکتی تھی۔ اس لیے مسواک کی فضیلت، نماز سے پہلے صفائی، اور دین میں آسانی اس روایت کے بنیادی پیغام ہیں۔ حدیث میں صاف لفظوں میں ہر نماز کے ساتھ مسواک کا ذکر آیا ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز سے پہلے مسواک کرنا پسندیدہ عمل ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنی امت پر مشقت نہیں چاہتے تھے۔
- دین میں صفائی کے ساتھ آسانی کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
