صحیح بخاری حدیث ۹۰۷ - اللہ کی راہ میں قدموں کی فضیلت
اللہ کی راہ میں غبار آلود قدم: جمعہ کے سفر کی فضیلت
صحیح بخاری : ۹۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۰۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ ، قَالَ : أَدْرَكَنِي أَبُو عَبْسٍ وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " .
عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج روایت:
میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا۔ راستے میں ابوعبس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ پر حرام کر دے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۹۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوعبس رضی اللہ عنہ نے ایک بڑی فضیلت بیان کی۔ وہ راوی سے اس وقت ملے جب وہ جمعہ کے لیے جا رہے تھے، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: جس کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اسے دوزخ پر حرام کر دے گا۔ حدیث کے الفاظ عام ہیں، مگر واقعہ میں بات جمعہ کے لیے جانے کے موقع پر کہی گئی۔ اس لیے اس کا تعلق جمعہ کی نماز کے لیے چل کر جانے، اللہ کی راہ میں محنت، اور نیکی کے سفر سے ہے۔ اس حدیث میں وہی فضیلت بیان کی جا سکتی ہے جو الفاظ میں صاف موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں اٹھنے والے قدموں کی بڑی قدر ہے۔
- جمعہ کے لیے جانا نیکی کے کاموں میں شامل ہے۔
- دین کے لیے تھوڑی مشقت بھی ضائع نہیں جاتی۔
- حدیث میں بیان کردہ فضیلت کو اسی کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
