صحیح بخاری حدیث ۹۴۹ - جائز تفریح اور گھر کا ادب

جائز تفریح کی حدیث: گھر میں نرمی، ادب اور سمجھ داری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۴۹

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ : مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : دَعْهُمَا ، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا .

عائشہ روایت:

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اس وقت میرے پاس (انصار کی) دو لڑکیاں جنگ بعاث کے قصوں کی نظمیں پڑھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ یہ شیطانی باجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ جانے دو خاموش رہو پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے انہیں اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔

صحیح بخاری حدیث ۹۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع جائز تفریح اور گھر کا ادب ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ان کے گھر تشریف لائے، اس وقت دو لڑکیاں جنگ بعاث کے قصوں پر نظمیں پڑھ رہی تھیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم بستر پر لیٹ گئے اور چہرہ دوسری طرف پھیر لیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے اس بات پر سختی کی اور اسے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی موجودگی کے مناسب نہ سمجھا۔ مگر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نرمی فرمائی اور کہا کہ انہیں چھوڑ دو۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر موقع پر سختی مناسب نہیں ہوتی۔ گھر کے ماحول میں ادب بھی رہے اور نرمی بھی، یہ ایک اہم توازن ہے۔ اس حدیث کو لوگ عموماً جائز تفریح کی حدیث، حضرت عائشہ کی روایت، جنگ بعاث کی نظم والی حدیث، اور گھر میں نرمی کی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر میں دینی ادب کے ساتھ نرم مزاجی بھی ضروری ہے۔
  • ہر ایسی بات پر فوراً سختی کرنا درست نہیں جس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نرمی فرمائی ہو۔
  • بڑوں کو اصلاح کرتے وقت موقع، ماحول اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے طرز عمل کو سامنے رکھنا چاہیے۔
  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے اشارے اور ماحول کا خیال رکھتے ہوئے لڑکیوں کو بعد میں جانے کا اشارہ کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں