صحیح بخاری حدیث ۹۵۹ - عیدالفطر کی نماز میں اذان نہیں
عیدالفطر کی نماز کا طریقہ: اذان نہیں، خطبہ نماز کے بعد
صحیح بخاری : ۹۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۹۵۹
قَالَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي أَوَّلِ مَا بُويِعَ لَهُ " إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ " .
عطاء روایت:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو اس زمانہ میں بھیجا جب (شروع شروع ان کی خلافت کا زمانہ تھا آپ نے کہلایا کہ) عیدالفطر کی نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی اور خطبہ نماز کے بعد ہوتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۹۵۹ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز عید کی حدیث کے طور پر عیدالفطر کی نماز کا ایک واضح عمل بتاتی ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ عیدالفطر کے دن نماز کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی، اور خطبہ عید نماز کے بعد ہوتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کی نماز میں اذان کا معاملہ عام فرض نمازوں جیسا نہیں تھا۔ یہاں اصل بات عیدالفطر کی نماز کا ترتیب وار طریقہ ہے: پہلے نماز، پھر خطبہ۔ اس حدیث میں صرف عیدالفطر کا ذکر ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ یہ روایت ہمیں عبادت کے طریقے میں سادگی، ترتیب اور نقل شدہ عمل کی پابندی کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عیدالفطر کی نماز کے لیے اذان نہ دینے کا ذکر اس روایت میں صاف آتا ہے۔
- اس حدیث کے مطابق عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوتا تھا۔
- دینی عمل میں وہی ترتیب اہم ہے جو روایت میں بیان ہوئی ہو۔
- حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز عید کے طریقے کی یاد دہانی کرائی۔
