زہد و ورع اور تقوی کے فضائل و مسائل
سنن ابن ماجہ : ۴۱۰۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۴۱۰۰
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الْقُرَشِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ , وَلَا فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ , وَلَكِنْ الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدِ اللَّهِ , وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أُصِبْتَ بِهَا , أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ " , قَال هِشَامٌ : كَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ , يَقُولُ : مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَحَادِيثِ كَمِثْلِ الْإِبْرِيزِ فِي الذَّهَبِ .
´ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد (دنیا سے بے رغبتی) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے“۔ ہشام کہتے ہیں: کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔
سنن ابن ماجہ : ۴۱۰۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۴۱۰۱
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي فَرْوَةَ , عَنْ أَبِي خَلَّادٍ , وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ أُعْطِيَ زُهْدًا فِي الدُّنْيَا , وَقِلَّةَ مَنْطِقٍ , فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ يُلْقِي الْحِكْمَةَ " .
´ابوخلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو دنیا کی طرف سے بے رغبت ہے، اور کم گو بھی تو اس سے قربت اختیار کرو، کیونکہ وہ حکمت و دانائی کی بات بتائے گا“۔
سنن ابن ماجہ : ۴۱۰۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۴۱۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ , حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ, فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ , وَأَحَبَّنِي النَّاسُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ , وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّوكَ " .
´سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے، اور لوگ بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا سے بے رغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے“۔
