سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۱۷ - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
سنن ابن ماجہ : ۱۰۱۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۰۱۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَجَاءَتْ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : " كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں آ کر نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، تو میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو آپ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کا جواب کیسے دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہے تھے ۱؎۔
