سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۸ - عمرؓ کی زبان پر حق
حضرت عمرؓ حق بات کہتے تھے
سنن ابن ماجہ : ۱۰۸
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۰۸
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ " .
ابوذر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ حق ہی بولتے ہیں“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے، وہ اسی کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ اس روایت کا مرکزی موضوع حق گوئی اور حضرت عمر کی فضیلت ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت واضح ہیں: حضرت عمرؓ کی زبان پر حق رکھا گیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بات میں حق کی موافقت کا خاص پہلو تھا۔ اس تشریح میں کسی اضافی واقعے کو شامل نہیں کیا گیا، کیونکہ اصل حدیث صرف حضرت عمرؓ کی زبان اور حق بات کے تعلق کو بیان کرتی ہے۔ یہ روایت حق بات، عمر بن خطاب کی فضیلت اور سچائی سے متعلق سرچ کرنے والوں کے لیے اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت عمرؓ کی زبان پر حق کا ذکر آیا ہے۔
- حق بات کہنا ایک بڑی خوبی ہے۔
- صحابہؓ کے فضائل کو حدیث کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
