سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۱ - فتنے میں عثمانؓ ہدایت پر
فتنے کے وقت حضرت عثمانؓ ہدایت پر ہوں گے
سنن ابن ماجہ : ۱۱۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى " ، فَوَثَبْتُ ، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " هَذَا " .
کعب بن عجرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا“، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے)“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت کعب بن عجرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا جو جلد ظاہر ہونے والا تھا۔ اسی دوران ایک شخص سر ڈھانپے گزرے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص اس وقت ہدایت پر ہو گا۔ کعبؓ نے اٹھ کر حضرت عثمانؓ کے کندھے پکڑے اور پوچھا: کیا یہی ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہیں۔ اس حدیث کا موضوع حضرت عثمان کی فضیلت اور فتنہ کے وقت ہدایت ہے۔ روایت میں فتنہ کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے تشریح میں بھی اسی حد تک بات رکھی گئی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عثمانؓ کے بارے میں ہدایت پر ہونے کی گواہی دی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتنے کے وقت حق پر رہنا بڑی بات ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عثمانؓ کو ہدایت پر بتایا۔
- حدیث میں جس حد تک بات آئے، اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔
