سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۲۷ - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
سنن ابن ماجہ : ۱۱۲۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۲۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا هَلْ عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَّخِذَ الصُّبَّةَ مِنَ الْغَنَمِ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ فَيَتَعَذَّرَ عَلَيْهِ الْكَلَأُ ، فَيَرْتَفِعَ ثُمَّ تَجِيءُ الْجُمُعَةُ ، فَلَا يَجِيءُ وَلَا يَشْهَدُهَا ، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ ، فَلَا يَشْهَدُهَا ، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ ، فَلَا يَشْهَدُهَا حَتَّى يُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن لو! قریب ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک یا دو میل کے فاصلے پہ بکریوں کا ایک ریوڑ اکٹھا کر لے، وہاں گھاس ملنی مشکل ہو جائے تو دور چلا جائے، پھر جمعہ آ جائے اور وہ واپس نہ آئے، اور نماز جمعہ میں شریک نہ ہو، پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، اور پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، بالآخر اس کے دل پہ مہر لگا دی جاتی ہے“۔
