سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۶ - مغرب کے بعد سورہ پڑھنے کی سنت
مغرب کے بعد سنت نماز میں سورتوں کی تلاوت
سنن ابن ماجہ : ۱۱۶۶
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۶۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، وَأَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ : قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں مخصوص سورتیں جیسے سورہ کافرون اور سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم عبادت میں قرآن کی مخصوص سورتوں کو بھی شامل کرتے تھے تاکہ عبادت میں مزید روحانیت اور توحید کا احساس پیدا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنت نماز میں قرآن کی تلاوت اہم ہے
- مغرب کے بعد مخصوص سورتیں پڑھنا مسنون ہے
- توحید پر مبنی سورتوں کی تلاوت کی فضیلت ہے
