سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۷۳ - وتر میں معوذتین کی تلاوت
وتر نماز میں معوذتین اور دیگر سورتوں کی تلاوت
سنن ابن ماجہ : ۱۱۷۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۱۷۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى : بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ " .
´عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ` ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں: «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۱۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم وتر نماز میں مختلف سورتیں پڑھتے تھے جن میں سورہ اعلیٰ، کافرون، اخلاص اور معوذتین شامل تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر میں قرآن کی مختلف سورتوں کی تلاوت کی جاتی تھی تاکہ عبادت میں مکمل توجہ اور حفاظت حاصل ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر میں معوذتین پڑھنا مسنون ہے
- قرآن کی تلاوت عبادت کا حصہ ہے
- عبادت میں روحانی حفاظت حاصل ہوتی ہے
