سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۸۲ - چاشت کی نماز اور گناہوں کی معافی

نمازِ چاشت کی پابندی اور گناہوں کی بخشش

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۳۸۲

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز الضحی (چاشت) کی دو رکعتوں پر محافظت کرے گا، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نمازِ چاشت (ضحیٰ) کی دو رکعتوں کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس نماز کو باقاعدگی سے ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دے گا، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفل عبادات، خاص طور پر چاشت کی نماز، انسان کی روحانی صفائی کا ذریعہ ہیں۔ یہ نماز دن کے وقت اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ایک آسان عمل ہے۔ چاشت کی نماز کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنا انسان کے دل کو نرم کرتا ہے اور اسے اللہ کی رحمت کے قریب کرتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نمازِ چاشت کی دو رکعتیں گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن سکتی ہیں
  • نفل عبادات انسان کے روحانی درجے کو بلند کرتی ہیں
  • اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، چھوٹے عمل سے بھی حاصل ہو سکتی ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں