سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۴ - خوشی پر سجدہ شکر
خوشی کے وقت سجدہ شکر کی سنت
سنن ابن ماجہ : ۱۳۹۴
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۳۹۴
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ بُشِّرَ بِهِ ، خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
ابوبکرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۳۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کو جب کوئی خوش کن خبر ملتی تو آپ صلى الله عليه وسلم فوراً اللہ کے سامنے سجدہ میں گر جاتے۔ یہ سجدہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا اظہار ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر خوشی کو اللہ کی طرف منسوب کرنا چاہیے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوشی پر سجدہ شکر سنت ہے
- ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
- عاجزی ایمان کی نشانی ہے
