سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۶۸ - حاملہ اور دودھ پلانے والی کے لیے روزے کی رخصت
حمل اور دودھ پلانے میں روزے کی آسانی اور رخصت
سنن ابن ماجہ : ۱۶۶۸
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۶۸
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ ، وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو، رخصت دی کہ وہ دونوں روزے نہ رکھیں۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ حاملہ عورت جسے اپنی جان یا صحت کا خطرہ ہو اور دودھ پلانے والی عورت جسے اپنے بچے کی صحت کا ڈر ہو، انہیں رمضان کے روزے چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد دین میں آسانی پیدا کرنا ہے تاکہ ماں اور بچے دونوں کو نقصان نہ ہو۔ یہاں روزے کو مؤخر کرنے کی رخصت دی گئی ہے، یعنی بعد میں قضا کرنا ہوگی۔ یہ اسلامی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ شریعت میں تنگی نہیں بلکہ سہولت رکھی گئی ہے۔ روزے کا اصل مقصد عبادت ہے لیکن جان و صحت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو صحت کے خطرے کی صورت میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے
- اسلام میں عبادات میں آسانی اور رخصت کا اصول موجود ہے
- چھوڑے گئے روزوں کی بعد میں قضا ضروری ہے
